The Indus Civilization 2 | Irfan Habib | People's History Of India History and PoliticsA People's History of India 2: The Indus Civilization The Indus Civilization by Irfan Habib forms Volume 2 of the People's History of India series. It continues the story from the point reached in the preceding volume, Prehistory, and goes on to describe in depth the Indus Civilization. In addition, other contemporary and later cultures down to about 1500 BC are surveyed, and there is a discussion on how the major language families of India have
ادب میں نفسیاتی صداقت سے کیا مراد ہے ؟ ادبی تخلیقات میں نفسیاتی ٹائپ اور نقطہ نظر کو کیا مقام حاصل ہے ؟ ادیب داخلی یا خارجی محرکات سے جو محسوسات اخذ کرتا ہے ۔ انھیں کسی طرح ذہنی طور پر فن کے پیکر میں ڈھالتا ہے اور پھر کیسے انہیں خارجی شکل میں پیش کرتا ہے ۔ اس کے مختلف ہوتا ہے؟ کیا یہ سوال محض تیکنیک سے متعلق ہے یا اس کی کچھ نفسیاتی وجوہ بھی ہوتی ہیں۔ کسی ادیب کی تخلیقی قوت کو بروئے کار لانے کے لئے کون سے خارجی یا داخلی محرکات ضروری ہوتے ہیں۔ اور مختلف ادیبوں میں ان کی ماہیت یکساں رہتی ہے یا بدل جاتی ہے۔ کیا تخلیقی عمل شعوری ہوتا ہے یا لا شعوری ؟ کیا ادیب نورمل انسان ہوتا ہے یا اب نور مل؟ ادیب اپنی ذہنی ساخت کی مناسبت سے ادب اور سماج سے کس طرح مسلک ہوتا ہے ؟ ادیب اپنی تخلیقات سے کیوں اور کس طرح قارئین پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس نوعیت کے حملہ سوالات کا تعلق ادب اور نفسیات کے باہمی رشتے کے علاوہ علم کے دوسرے شعبوں سے بھی ہے۔ جدید ادب نفسیات کے نئے نظریوں کی روشنی میں فرد اور اس کے ذہنی عمل میں زیادہ سے زیادہ لچسپی لیتے لگا ہے ۔ جدید ادب میں ایک مخصوص نظریہ تو کردار کی ذہنی کیفیت کے بیان ہی کو اپنا مقصود سمجھتا ہے جدید ادب میں ہمیں اکثر اوقات فرد ، اس کے ذہن اس کی لاشعوری قوت اور ذہنی کیفیت کے گوناگوں تجربات کا بیان ملتا ہے ادب میں ان رجحانات کی اشاعت کا باعث فرائیڈ، ژونگ اور ایڈلر کے نظریات ہیں لیکن یہ کہہ دینا صحیح نہیں کہ فلاں ادیب فرائیڈ پرست ہے یار رنگ پریست عموماً ادیب کی تخلیقات میں کم و بیش ان تمام نظریات کی آمیزش ملتی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ بنیادی طور پر کسی ایک ماہر نفسیات سے متاثر ہوا ہو۔
آزادی کی عظمت | گرورجنیش | اوشو
Famous Trials for Love and Murder by Khalid Latif Gauba
ہمارے یہاں اقبالیات کی دنیا عمومی طور پر ان پانچ زاویوں یا سلسلوں سے اپنی اہمیت بنائے ہوئے ہے۔ اقبال کے لیے تحسین و عقیدت کا شعبہ، تدریس اقبال کا زاویہ ردا اقبال اور تضحیک اقبال کا غلغلہ، نام اقبال پر خود نامی گرامی بننے کا رویہ، تکرار و اعادہ، تشریح و تر جمانی کا سلسلہ۔۔۔ ان حلقوں کے ساتھ ساتھ اقبال سے محبت کرنے والے ایسے ارباب علم و ادب ہمیشہ موجود رہے ہیں جو کسی شاعر و مفکر کی محبت کو ارادت میں بدلنے اور تذکرہ و تنقید کو فقط مدحت بنانے پر یقین نہیں رکھتے ، نہ ہی وہ کسی شخصیت کے عقیدت مندوں کے بیانات اور نتائج فکر کو اس شخصیت کے بیانات اور نتائج فکر مان لینے کا حوصلہ اور سلیقہ رکھتے ہیں؛ البتہ وہ خود حقائق کو کھوجنے اور اپنے محبوب شاعر کی سچی اور چمکتی تصویر کو ہر نوعیت کے گرد و غبار سے نکالنے کا حوصلہ اور سلیقہ ضرور رکھتے ہیں۔
سوامی دیانند سرسوتی
ڈاکٹر عذر الیاقت تعلیم وتحقیق سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ اس وقت شعبۂ اردو، دی ویمن یونیورسٹی ملتان میں کرسی نشین شعبہ ہیں۔ انھوں نے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ۲۰۱۶ ء میں ڈاکٹر عقیلہ بشیر کی نگرانی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ، اور خود کو ایک پر عزم اسکالر اور استاد کے طور پر منوایا۔ ان کی تحقیق کا مرکز پاکستانی اردو افسانوں میں ترک وطن کے مختلف تجربات ہیں ، جن کی ممکنہ جہات اس کتاب کی صورت یکجا کر دی گئی ہیں۔ ان کی علمی کارکردگی میں نہ صرف تحقیقی مضامین بلکہ کانفرنسوں میں فعال شرکت بھی شامل ہے۔ وہ طلبہ میں اعلیٰ تعلیم کے شوق کو فروغ دینے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہیں اور پختہ ارادہ رکھتی ہیں کہ طالب علموں کے موجودہ علمی ذخیرے میں ممکنہ حد تک اضافہ کر سکیں جس سے طلبہ میں ادب کی حقیقی سمجھ، قدر اور شعور پیدا ہو۔ بہ طور سر براہ شعبہ ارمغان لٹریری فورم کی صدارت بھی کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف تحقیقی مجلات کی جائزہ کمیٹیوں، جب کہ ملکی جامعات کے مقالہ جات کی جانچ کمیٹیوں کی رکن بھی ہیں۔
جغرافیائی قوتیں اور عالمی سیاسی معرکہ آرائی – ایک فکری جائزہ
There are special notes on historical geography
سادہ باتوں میں پیچیدہ مسائل کا حل
مگر کیا بہترین موت کا انتخاب اذیت کو کم کر سکتا تھا ؟
Decolonizing The Mind | Ngũgĩ wa Thiong'o
Friends and Foes: An Autobiography by Khalid Latif Gauba