صحرا کا متلاشی | Sraha Ka Matlashi Muddasir Bashir( ) () : 272
Fasana-e-Mubtala | Deputy Nazir Ahmad
لیکن کنفیوشس کے چاہنے والوں نے ان خطرات کے باوجود علم و حکمت کے ان اقوال کو پتھر کی سلوں پر محفوظ کر لیا۔)
This Book Is An Invaluable And Indispensable Resource
to increase local and international heritage-lovers' understanding of these sites and to help preserve their beauty and histories through his writing
Book Details ISBN 978-969-652-054-2 No
فرخ سھیل گوئندی پاکستان ءِ نامداریں نبشتکار ءُ جُھد کار انت کہ وتی کَلم ءُ جُھد ءَ گوں پاکستانءرا گھبودی ریاست جوڑ کنگءَ دزگٹءَ انت۔ گوستگیں بازیں سالاں چہ وتی نبشتاک ءُ جُھدءَ گوں پاکستانی چاگردءَ را جمھوری ءُ بنی آدم ءِ بستاری رھبند ءِ ردا جوڑ کنگءِ کوششت کنگءَ انت۔وتی رژن ھیالی ءُ مھلوکءَ گوں ھمگرنچیں ھیال ءُ لیکہ سوبءَ وتی جتائیں پجارءِ داریت۔ فرخ سھیل گوئندی پاکستان ءِ سیاسی چاگردءِ نامداریں مردم زانگ بیت کہ آئیءَ کدی ھم وتی ھیال ءُ لیکہ ءُ مھلوک ءَ گوں ھمگرنچیءَرا نزور کنگءَ سئوداگری نہ کُتگ۔
پنجاب کے شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائکلوپیڈیا
" ایور پیک کی کتاب SUDDEN ENDINGS نظر سے گزری تو میں پڑھے بغیر نہ رہ سکی۔ جس محنت سے انہوں نے دنیا بھر کی ان معروف شخصیات کے حالات جمع کیے کہ جنہوں نے زندگی کے مصائب سے تنگ آکر خود کشی کر لی وہ بے مثال ہے۔ لیکن ان لوگوں کے حالات پر یہ محض بے مقصد طبع آزمائی نہیں بلکہ زبردست تحقیقی کام ہے۔ ان کی زندگیوں کے ایسے بہت سے پہلو جو ہماری نظروں سے مخفی تھے وہ فلم کی کہانی کی طرح ہماری آنکھوں کے سامنے چلنے لگتے ہیں۔ کتاب میں شامل ان لوگوں کی کہانیاں جن میں شاعر، ادیب، آرٹسٹ سب شامل ہیں دراصل معاشرے کے اس حساس طبقے کے اندر چھپے ہوئے خوف و ہراس ، مایوسی، ناکام حسرتوں ، بے مراد خواہشوں اور نازک ترین احساسات کی نشاندہی ہے جو آہستہ آہستہ انہیں موت کی طرف دھکیلتے رہے۔ سیاہ بختی اور زندگی کی ناانصافیوں کے خلاف بغاوت کا لاوا بڑی خاموشی سے اندر ہی اندر ابلتا رہا۔ ناپختہ عمر کے دکھوں محرومیوں نے ساری عمر پیچھا نہ چھوڑا تو زندگی سے انتقام اس کو ختم کر کے لیا ۔ ہارٹ کرین اور ڈیانا بیری مور کے شخصی خاکوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جس بحرانی شدت کے ساتھ دونوں نے کم عمری میں اپنے والدین کے شدید اختلافات کے باعث کیا اس نے ساری عمر کے لیے انہیں روگ دے دیا اور ان کی شخصیتوں میں ایسا خلا رہ گیا جو کبھی بھرا نہ جا سکا۔ والدین کی شخصیتوں کے تضاداور نفسیاتی الجھنوں نے ان حساس ذہنوں کو بچپن سے ہی بیمار کر دیا۔ ورجینیا وولف نے کم عمری میں ہی اپنے پیاروں کو موت میں جاتے دیکھا۔ اس نے جتنا لکھا تقریبا موت سب میں ہی اس کا بنیادی موضوع رہی۔ زندگی اور موت کی پراسراریت نے ہر لمحہ اسے پریشان رکھا جس کے نتیجے میں وہ شدید ذہنی خلفشار کا شکار ہوئی۔ اور بے اختیار زندگی کی بے وفائی پر تبصرہ کرتے ہوئے اس نے اپنی ڈائری میں لکھا " زندگی اتنی درد ناک کیوں ہے؟ بالکل اس گہرے گڑھے کی طرح جس کے ساتھ ننگے راستے ہوں ۔ میں نے نیچے اور خود کو احمق محسوس کرنے لگی۔ میں حیران ہوں کہ اس راستے تک کیسے چلوں گی؟ گویا زندگی کو اپنے ہاتھوں ٹھکرا دینے کا فیصلہ اس معروف برطانوی مصنفہ نے بہت عرصہ قبل کر لیا تھا۔ "
سفر نامہ قبلہ عالم
محمد یٰسین خاں باگھوڑوی میو
اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ، 16 ادیبوں کے حالات زندگی اور ان کے ادبی کام کا تعارف کرایا ہے ۔ ان کا تعلق ہندی ، بنگالی ، کنڑ ، کشمیری ، تامل ، سنسکرت ، پالی ، بھوجپوری ، ملیالم اور تبتی زبانوں سے ہے ۔ یہ قلمکار نامساعد حالات میں بھی ادب کی خدمت کرتے رہے ۔ ان میں سے پہلے ادیب 1850 ء میں اور آخری 1908 ء میں پیدا ہوئے ۔
ہر کیرت کور دے اس کہانی پر اگے نوں پڑھن مگروں کہہ سکدے ہاں اس نوں کہانی کہن دے فن چ مہارت ہے۔ کہانیاں دے وشے بے زبان جانوراں پر تی ڈو تھی سنوید نا دے منو بھاواں نال مجڑے ہن تے ہر کہانی دی دھر اتل مانو تا وادی ہے۔ پاتراں دا منو و شلیشن اوہ بڑی نیجھ تے وکیا برش چھوہاں نال پاٹھکاں ساہمنے ساکار کر دیندی ہے۔ اُس دے پاتر سانوں عام زندگی چہل جاندے ہن۔ پنجابی جن جیون وچ ربی رحمتاں دے مجسمے ایہ پاتر ساڑے چیتیاں چ زندہ ہو جاندے ہن جو اجو کی پیڑھی لئی اتہاس بن رہے ہن۔ ودیسی رہتل نوں بیاندیاں کہانیاں بیلی سیلی لکھوں پتھار تھک ہن۔